Aarzu (with Asim Azhar)
تیرا شرمانا میری جاناں کبھی
رکھ لوں چھپا کے تیری یادیں سبھی
خوابوں میں میرے ہے تو ہی بسی
تو ہی بسی، تو ہی بہ
تیرا شرمانا میری جاناں کبھی
رکھ لوں چھپا کے تیری یادیں سبھی
خوابوں میں میرے ہے تو ہی بسی
تو ہی بسی، تو ہی بہ
پیچھے دیکھوں راہیں تیری
یادیں جو رہی نہ میری
خوابوں میں بسا ہے تُو ہی تُو
سوالوں مِیں میں رکھ لوں چھپا کے
مجھے تُو ہی تو بگاڑے
میری آنکھوں میں سجا ہے تُو ہی تُو
پیچھے دیکھوں راہیں تیری
یادیں جو رہی نہ میری
خوابوں میں بسا ہے تُو ہی تُو
سوالوں مِیں میں رکھ لوں چھپا کے
مجھے تُو ہی تو بگاڑے
میری آنکھوں میں سجا ہے تُو ہی تُو
او کیسی دلکشی، تجھ سے دل لگی
میرے ہم نشیں، hmmm
کیوں چھپاؤں میں، اب کوئی ڈر نہیں
تُو جیسے میری پری، معصومیت چل کے تیری باتوں سے کتنی
ہائے
سادہ سی جو ادائیں تیری
قاتل ہیں وہ دل کی میری
پیچھے دیکھوں راہیں تیری
یادیں جو رہی نہ میری
خوابوں میں بسا ہے تُو ہی تُو
سوالوں مِیں میں رکھ لوں چھپا کے
مجھے تُو ہی تو بگاڑے
میری آنکھوں میں سجا ہے تُو ہی تُو
پھر سے بولو
پیچھے دیکھوں راہیں تیری
یادیں جو رہی نہ میری
خوابوں میں بسا ہے تُو ہی تُو
سوالوں مِیں میں رکھ لوں چھپا کے
مجھے تُو ہی تو بگاڑے
میری آنکھوں میں سجا ہے تُو ہی تُو
تیرا شرمانا میری جاناں کبھی
رکھ لوں چھپا کے تیری یادیں سبھی
خوابوں میں میرے ہے تو ہی بسی
تو ہی بسی
تیرا شرمانا میری جاناں کبھی
رکھ لوں چھپا کے تیری یادیں سبھی
خوابوں میں میرے ہے تو ہی بسی
تو ہی بسی، تو ہی بہ
دونوں جہاں تیری محبت میں ہار کے
وہ جا رہا ہے کوئی شبِ غم گزار کے
ویراں ہے میکدہ خُمُّ و ساغر اداس ہے
تم کیا گئے کہ روٹھ گئے دن بہار کے
رکھ لوں چھپا کے تیری یادیں سبھی
خوابوں میں میرے ہے تو ہی بسی
تو ہی بسی، تو ہی بہ
تیرا شرمانا میری جاناں کبھی
رکھ لوں چھپا کے تیری یادیں سبھی
خوابوں میں میرے ہے تو ہی بسی
تو ہی بسی، تو ہی بہ
پیچھے دیکھوں راہیں تیری
یادیں جو رہی نہ میری
خوابوں میں بسا ہے تُو ہی تُو
سوالوں مِیں میں رکھ لوں چھپا کے
مجھے تُو ہی تو بگاڑے
میری آنکھوں میں سجا ہے تُو ہی تُو
پیچھے دیکھوں راہیں تیری
یادیں جو رہی نہ میری
خوابوں میں بسا ہے تُو ہی تُو
سوالوں مِیں میں رکھ لوں چھپا کے
مجھے تُو ہی تو بگاڑے
میری آنکھوں میں سجا ہے تُو ہی تُو
او کیسی دلکشی، تجھ سے دل لگی
میرے ہم نشیں، hmmm
کیوں چھپاؤں میں، اب کوئی ڈر نہیں
تُو جیسے میری پری، معصومیت چل کے تیری باتوں سے کتنی
ہائے
سادہ سی جو ادائیں تیری
قاتل ہیں وہ دل کی میری
پیچھے دیکھوں راہیں تیری
یادیں جو رہی نہ میری
خوابوں میں بسا ہے تُو ہی تُو
سوالوں مِیں میں رکھ لوں چھپا کے
مجھے تُو ہی تو بگاڑے
میری آنکھوں میں سجا ہے تُو ہی تُو
پھر سے بولو
پیچھے دیکھوں راہیں تیری
یادیں جو رہی نہ میری
خوابوں میں بسا ہے تُو ہی تُو
سوالوں مِیں میں رکھ لوں چھپا کے
مجھے تُو ہی تو بگاڑے
میری آنکھوں میں سجا ہے تُو ہی تُو
تیرا شرمانا میری جاناں کبھی
رکھ لوں چھپا کے تیری یادیں سبھی
خوابوں میں میرے ہے تو ہی بسی
تو ہی بسی
تیرا شرمانا میری جاناں کبھی
رکھ لوں چھپا کے تیری یادیں سبھی
خوابوں میں میرے ہے تو ہی بسی
تو ہی بسی، تو ہی بہ
دونوں جہاں تیری محبت میں ہار کے
وہ جا رہا ہے کوئی شبِ غم گزار کے
ویراں ہے میکدہ خُمُّ و ساغر اداس ہے
تم کیا گئے کہ روٹھ گئے دن بہار کے